حضرت سھل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جب تک میری امت کے لوگ افطار جلدی کرتے رہیں گے وہ اچھے حال میں رہیں گے”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
جلد افطار کرنے والا، یعنی سورج کے غروب ہونے کے فوراً بعد افطار کرنے والے کو اللہ تعالٰی کی نظر میں بھی پسندیدہ ہونے کی فضیلت حاصل ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے اس عمل سے نہ صرف یہ کہ سنت کی اتباع کرتا ہے بلکہ اہل کتاب یعنی یہودونصارٰی کی بھی مخالفت کرتا ہے۔
افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کی نگاہیں دین کی روح اور اصل مقصد سے ہٹی ہوئی نہیں ہیں بلکہ وہ حقیقت سے آشنا ہیں۔ ان کے یہاں جس چیز کی اصل اہمیت ہے وہ احکام کی روح اور ان کے مقاصد ہیں۔ آدمی کی نگاہ جب دین کی اصل اور منشاء سے بےگانہ ہوجاتی ہے تو لازماً اس کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی احکام میں ظاہر کے لحاظ سے بےجا احتیاط اور غلو میں پڑ جاتا ہے۔ اس کا یہ غلو اور احتیاط ایک بڑی بیماری کا پتہ دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کی نگاہ میں جس چیز کی اصل اہمیت ہونی چاہیے تھی اس سے وہ غافل ہوگیا ہے۔ جس کام کو جس طرح انجام دینے کا حکم دیاگیا ہے اسے اس طرح انجام دینا چاہیے۔ آدمی کو اپنی رائے اور اپنے ذوق کا پابند ہونے کی بجائے خود کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا پابند ہونا چاہیے۔ یہی تقوٰی اور بندگی کا اصل تقاضا ہے جو کہ روزے کی اصل غرض و غایت ہے۔
اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی طرف نشاندہی فرمائی ہے کہ اس امت کے حالات اس وقت تک اچھے رہیں گے۔ جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔ اس کا راز یہ ہے کہ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا شریعت کا حکم ہے اور اللہ تعالٰی کی مرضی ہے اور اس میں عام بندگان خدا کے لیے سہولت اور آسانی بھی ہے جو اللہ تعالٰی کی رحمت اور نگاہ کرم کا ایک مستقل وسیلہ ہے اس لیے امت جب تک اس پر عمل کرتی رہے گی وہ اللہ تعالٰی کی نظر کرم کی مستحق رہے گی اور اس کے حالات اچھے رہیں گے اور اس کے برعکس افطار میں تاخیر اور سحری میں جلدی کرنے میں چونکہ اللہ تعالٰی کے تمام بندوں کے لیے مشقت ہے اور یہ ایک طرح کی بدعت اور یہودونصارٰی کا طریقہ ہے اس لیے وہ اس امت کے لیے بجائے رضا اور رحمت کے اللہ تعالٰی کی ناراضگی کا باعث بنے گا۔ اسی واسطے جب امت اس طریقے کو اپنائے گی تو اللہ تعالٰی کی نظر کرم سے محروم ہوگی اور اس کے حالات بگڑیں گے۔
