افطار میں جلدی کرنے کی تاکید

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”دین اس وقت تک برابر غالب (و قائم) رہے گا جب تک لوگ افطار جلد کرتے رہیں گے۔ کیونکہ یہودونصارٰی (افطار کرنے میں) دیر کرتے ہیں”۔
(ابو داؤد و ابن ماجہ)


فائدہ:۔
روزے میں غلو اور تشدد کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ بہت سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ روزے کا مقصد اپنی خواہش کو مارنا اور اپنے نفس کو کچلنا ہی ہے۔ اس لیے جو شخص جتنا زیادہ اپنی خواہش کو مٹائے اور نفس کو دبائے اور اتنا ہی مقصد صوم کو پورا کررہا ہے اور اسی قدر وہ اللہ تعالٰی کی محبوبیت و قرب حاصل کررہا ہے۔ چنانچہ قدیم مذاہب کے دین داروں میں عموماً یہی ذہن پیدا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کھانے پینے سے پرہیز کی معیاد بہت بڑھا دی تھی۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ افطار میں زیادہ سے زیادہ دیر کریں۔ وہ اس چیز کو بڑی کمزوری، نفسانیت اور دین داری کے خلاف سمجھتے تھے کہ انسان کھانے پینے کی طرف دھیان دے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے روزوں کی مدت میں خود اپنی مرضی سے بہت وسعت دے کر ان کی صورت بدل ڈالی اور ایک سیدھی اور آسان عبادت کو خود اپنے ہاتھوں مصیبت بنالیا اور یہی نکتہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےمختلف موقعوں پر اہل کتاب یعنی یہود و نصارٰی کی مخالفت کا حکم دیا۔

یہود و نصارٰی کی مخالفت میں دوسرے بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا کی موجودہ مِلتوں میں یہ دو مِلتیں ایسی ہیں جو بہت سے معاملات میں مِلت اسلامی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ پھر جائے وقوع کے لحاظ سے بھی دونوں اسی خطے میں ہیں جس کو اسلام کا مظہر بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ ایسے حالات میں تین مِلتوں کا ایک ہی سرزمین میں رہنا اور احکام شرعیہ میں یکسانیت و یگانگت رکھنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس بات کا سخت اندیشہ تھا کہ تحریف شدہ دو پرانی شریعتیں اس تازہ نوخیز اور ابھرتی ہوئی نئی شریعت پر اثر انداز ہوجائیں اس لیے اس کی انفرادیت کی حفاظت اور اس کے احکام کی حدبندی بہت ضروری تھی اور ان تمام چور دروازوں کی ناکہ بندی ناگزیر تھی جہاں سے تحریف کا ذرا بھی امکان تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ غلبہ دین کے لیے ضروری ہے کہ اہل ایمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں اپنی خصوصیت اور امتیاز کو باقی رکھیں۔

اس حدیث میں افطار میں جلدی کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب کے غروب ہوجانے کے بعد افطار میں دیر نہ کی جائے۔ غروب آفتاب کے بعد افطار میں جلدی کرنے سے اہل کتاب کی مخالفت ہوتی ہے کیونکہ وہ افطار میں اس وقت تک تاخیر کرتے ہیں جب تک کہ ستارے خوب اچھی طرح نہیں نکل آتے۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.