سحری کھانے کی امت کو ہدایت

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کھانا ہے”۔
(مسلم)


فائدہ:۔
روزے کا وقت شروع ہونے سے پہلے یعنی صبح صادق سے پہلے آدمی کچھ کھا پی لے تاکہ روزہ کی حالت میں اس کے جس کو کچھ تقویت مل سکے۔ اس کو اصطلاح میں سحری کرنا یا سحری کھانا کہتے ہیں۔ یہ نہ صرف جائز بلکہ شریعت میں مطلوب اور پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالٰی کا انعام و احسان ہے کہ روزے کی برکت سے اس نے ہمارے لیے اس کھانے کو جس کو سحری کہتے ہیں، امت کے لیے ثواب کی چیز بنا دیا اور اس میں مسلمانوں کو اجر بھی دیا جاتا ہے۔ بہت سی احادیث میں اس کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اس کے کھانے کی فضیلت اور اجروفوائد بھی بتلائے گئے ہیں۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی حقیقت ایک وقت مخصوص میں روزے کی نیت سے کھانے پینے وغیرہ کو چھوڑے رکھنا ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اس کی حد بندی کسی وجودی چیز سے ہی ہوسکتی ہے اور وہ ہے کھانا پینا۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ جہاں سے اس کی ابتداء ہو وہاں بھی کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا عمل پایا جائے تاکہ ظاہر ہو کہ اس کھانے(سحری) کے بعد سے روزہ شروع ہوا اور دوسرے کھانے (افطار) پر ختم ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد موقعے پر روزے کے لیے سحری کھانے کی ترغیب بیان فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں یہ فرمایا کہ اور کچھ نہ ہوتو ایک چھوہارا ہی کھالو یا ایک گھونٹ پانی ہی پی لو۔

اس لیے روزے داروں کو اس سحری کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے تاکہ راحت، نفع اور مفت کا ثواب حاصل ہو۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ سحری کھانے میں بندے کا اپنا فائدہ ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے اس میں بھی اجروثواب رکھا ہے۔ سحری کھانے سے عبادت میں بستگی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ بھوک سے اکثر بدخلقی اور تکان پیدا ہوجاتی ہے۔ روزے دار کے لیے روزے کا اجروثواب اپنی جگہ ہے لیکن روزہ رکھنے کے لیے سحری کرنے کا ثواب اس کے علاوہ ہے۔

اس حدیث پاک میں اس بات کی نشاندہی فرمائی گئی ہے کہ اہل کتاب یعنی یہودونصارٰی اور مسلمانوں کے روزوں کے درمیان یہ سحری ہی فرق کرتی ہے۔ اہل کتاب کے یہاں رات میں سو رہنے کے بعد کھانا حرام تھا۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں بھی ابتداء اسلام میں یہی حکم تھا۔ مگر بعد میں اللہ تعالٰی نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص فضل فرما کر نہ صرف یہ کہ اسے حلال قرار دیا بلکہ اس پر اجروثواب اور اپنی رحمتیں بھی نازل فرمائیں۔

سحری کی برکات مختلف وجوہ سے ہیں۔ اتباع سنت اہل کتاب کی مخالفت، کہ وہ سحری نہیں کھاتے اور ہم لوگ حتٰی الامکان ان کی مخالفت کے مامور ہیں۔ اس سے اہل کتاب کی مخالفت لازم آتی ہے جو اس عظیم نعمت کی شکرگزاری کا ایک ذریعہ ہے۔ نیز عبادت میں ذوق و شوق، زیادتی اور اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کا جذبہ بیدار رہتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا کس قدر احسان عظیم ہے کہ اس نے سحری کو بھی ہمارے لیے ثواب و برکت کا سامان بنا دیا۔ افسوس! بعض لوگ رمضان کی راتوں میں بلا ضرورت دیر تک جاگتے ہیں اور سستی کی وجہ سے سحری کی فضیلت سے تو محروم ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی اس ماہ مبارک میں فجر کی نماز بھی قضا کرتے ہیں۔

سحری کا وقت خصوصیت کے ساتھ توبہ و مناجات اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ سحری کی بدولت دعا کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ ایسے وقت سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے، سحری کی اتنی فضیلت اور برکت کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ اس کا پورا پورا اہتمام کریں، اسلام دین فطرت ہے، اسلام کی تعلیم انسان کی آسانی اور بہتری کے لیے ہے۔ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.