حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”ابن آدم کے ہر عمل کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ (یعنی اس امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کے متعلق عام قانون الٰہی یہی ہے کہ ایک نیکی کا اجر اگلی امتوں کے لحاظ سے کم از کم دس گنا ضرور عطا ہوگا، اور بعض اوقات عمل کرنے کے خاص حالات اور اخلاص و خشیت کی کیفیات کی وجہ سے اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوگا، یہاں تک کہ بعض مقبول بندوں کو ان کے اعمال حسنہ کا اجر سات سوگنا عطا فرمایا جائےگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے اس عام قانون رحمت کا ذکر فرمایا، مگر) اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ روزہ اس سے مستثنٰی ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا (جتنا چاہوں گا) بدلہ دوں گا۔ انسان اپنی شہوت نفس اور اپنا کھانا میری ہی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں۔ ایک مسرت افطار کے وقت اور دوسرے اپنے رب کی ملاقات کے وقت، اور روزہ دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔ (یعنی انسانوں کے لیے مشک کی خوشبو جتنی اچھی اور جتنی پیاری ہے اللہ تعالٰی کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے)، اور روزہ دار (دنیا میں شیطان اور نفس کے حملوں شے بچاؤ کے لیے اور آخرت میں آتش دوزخ سے حفاظت کے لیے) ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش باتیں نہ کرے اور نہ شوروشغب اور دنگا فساد کرے اور اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں(یعنی میں تمہارے اس مشغلہ میں حصہ نہیں لے سکتا)”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے فرمایا کہ اللہ تعالٰی لوگوں کے اعمال نیک کا اجر ان کی نیتوں اور خلوص کے اعتبار سے دس گنا سے سات سو گنا تک عطا کرتا ہے۔ لیکن روزے کا معاملہ اس عام قانون سے مختلف ہے۔ روزہ اور اس کے ثواب کی اس فضیلت کے دو سبب ہیں اورل تو یہ کہ روزہ دوسرے تمام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے، جبکہ دوسری عبادتیں اور نیکیاں کسی نہ کسی طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور دوسرے لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں۔ لیکن روزہ ایک ایسا خاموش اور غیر مرئی عمل ہے جس کو روزہ دار اور اللہ تعالٰی کے سوا دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ اس میں ریاء اور نمائش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالٰی اس کا اجر بھی بےحدوبےحساب عطا فرمائےگا۔ دوم یہ کہ روزہ میں نفس کشی اور جسم و بدن کا ہلکان و نقصان ہے۔ روزے کی حالت میں انسان کو بھوک و پیاس اور ساتھ ہی اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانا پڑتا ہے۔
روزہ تزکیہ نفس کے لیے وہ عمل ہے جس کے اثرات تطہیر نفس اور تہذیب الاخلاق پر گہرے ہوتے ہیں اور اس سے ایک مومن نفس الامارہ پر قابو حاصل کرنے کی صلاحیت بھی پا جاتا ہے۔ یہ نفس بڑا ہی سرکش ہے۔ اس کی سرکشی سے وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالٰی کا رحم ہوجائے، ارشاد باری تعالٰی ہے:۔ ”یقیناً نفس امارہ برائی کا پرزور حکم دینے والا ہے، سوائے اس کے جس پر اللہ کا رحم ہوجائے”۔ (یوسف۔53)۔
اس کے علاوہ رمضان میں نیکی اور تقوٰی کا عام ماحول میسر آتا ہے جس میں خیر اور اصلاح کے پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ آدمی جتنی زیادہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اس مہینے میں عمل کرے گا اور جتنا زیادہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا اور سال کے باقی گیارہ مہینوں میں رمضان کے اثرات کو باقی رکھےگا اتنا ہی زیادہ اس کے نیک اعمال پھلتے پھولتے رہیں گے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہ خصوصیات عام حالات میں دیگر اعمال کو حاصل نہیں ہیں۔
افطار کے وقت روزے دار کو خوشی دو وجہ سے ہوسکتی ہے یا تو اس لیے کہ یہ وہی وقت ہوتا جبکہ روزہ دار اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کے حکم اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ محسوس کرتا ہے۔ یا پھر یہ کہ وہ عبادت توفیق اور اس کی نورانیت کی وجہ سے اپنے آپ کو مطمئین و مسرور محسوس کرتا ہے، جو ظاہر ہے خوشی کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ دنیاوی اور جسمانی طور پر بھی یوں محسوس ہوتی ہے کہ دن بھر کی بھوک پیاس کے بعد اسے کھانے پینے کو ملتا ہے۔ دوسری خوشی اس وقت ہوگی جب کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرےگا اور روزہ دار کے بدلے اللہ تعالٰی کی طرف سے بےحد و بےحساب انعامات اور اعزاز و اکرام سے نوازا جائے گا۔
حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایت فرمائی اس میں اشارہ ہے کہ اس حدیث میں روزہ کی جو خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی ہیں جن میں شہوت نفس اور کھانے پینے کے علاوہ گناہوں سے حتٰی کہ بری اور ناپسندیدہ باتوں سے بھی پرہیز کیا گیا ہو۔
