روزے کا بنیادی مقصد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جس شخص نے (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ وہ (روزہ رکھ کر) اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”۔
(بخاری)


فائدہ:۔
رمضان المبارک کا مہینہ شریعت اسلامی میں روزوں کا مہینہ ہے۔ روزوں کی اصل غرض و غایت یہی ہے کہ انسان تقوٰی کی صفات سے آراستہ و پیراستہ ہو جائے۔ اسی تقوٰی سے انسان کو قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔ تقوٰی دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالٰی کے ہمیشہ حاضرو ناظر ہونے کا یقین پیدا کرکے دل میں خیروشر کی تمیز کی خلش اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کردیتی ہے۔ روزہ انسان کو تقوٰی کے مضبوط کٹہرے میں لے آتا ہے۔ اس طرح انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیوں سے بچتا ہے اور خیر کثیر بھی جمع کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد پاک ہے: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقوٰی (اور پرہیزگاری) پیدا ہو”۔ (البقرہ۔183)۔

اس آیت کریمہ سے روزے کی فرضیت اور غایت دونوں ثابت ہوگئیں۔ چنانچہ روزے کا حکم اور اس کی غرض و غایت کا ہمیں ”تتقون” کے ذریعے معلوم ہوگیا۔ یعنی روزے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم متقی بن جائیں اور ہمارے اندر ایک ایسا سلیقہ پیدا ہوجائے کہ نفس پر پورا پورا اختیار اور ہماری حکومت ہو تاکہ ہم اس کے متبوع اور وہ ہمارے تابع، ہم اس کے حاکم اور وہ ہمارا محکوم بن جائے۔ متقی عرف شرع میں وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو ہر چیز سے بچائے رکھے جو آخرت میں موجب ضرر اور باعث ہلاکت ہو۔ جو اپنے دامن کو شرک و بدعات، معصیت و گناہ سے بچا کر عذاب الٰہی سے دائمی چھٹکارا حاصل کرلے اور حق کی طرف مائل ہوجائے۔ حرص و ہوس کو ترک کردے۔

تقوٰی اور پرہیزگاری حاصل کرنے میں روزے کو بہت دخل ہے۔ کیونکہ روزے سے انسان کے لیے خواہشات نفسانی کو قابو رکھنے کا وصف پیدا ہوتا ہے جو کہ تقوٰی کی بنیاد ہے۔ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی عقل کو اس کے نفس پر ہمیشہ غلبہ اور تسلط رہے۔ لیکن بعض اوقات بشری تقاضوں کی وجہ سے اس کا نفس اس کی عقل پر مسلط ہوجاتا ہے۔ اس لیے دین اسلام میں اصلاح باطن اور پاکیزگی قلب کے لیے روزے کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کو دین کے اصول سے ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کا ایک خاص مقصد انسان کے اندر اسلام، ایمان، امن و آشتی اور سلامتی کے احساسات کو ابھارتا ہے۔ اس ماہ مقدس میں انسان روزے کے تربیتی اوقات سے خود کو گزار کر اپنے اندر روحانی نفسیات اور انسانی کیفیات کو ابھارتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ سال بھر اللہ تعالٰی کی مخلوقات کے ساتھ اس کا ایمانی اور اسلامی تعلق مضبوط و مستحکم رہے۔

تقوٰی ہی وہ جوہر اور حاصل مقصود شے لطیف ہے جو ہر انسان کو برائی سے دور کرتی ہے۔ نور ایمانی کو بڑھاتی ہے اور یہ صفت جس کے اندر پیدا ہوئی اس کی نجات اور مغفرت کا اللہ تعالٰی محافظ و ناصر ہے۔ روزے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صبح تا شام تک بھوکا پیاسا رہے۔ بلکہ روزے کا مقصد حقیقی تو یہ ہے کہ جس طرح مشروب و طعام سے اپنے پیٹ کو محروم رکھتے ہیں۔ اسی طرح حواس خمسہ آنکھ، ناک، کان، زبان وغیرہ کو بھی ہر لغویات و خرافات سے محفوظ رکھیں۔ اگر واقعی ہم نے حق صوم ادا کرلیا تو پھر اللہ تعالٰی کے بےشمار خوشنودیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ ورنہ ایسے روزے کے حقیقی مفاد سے محروم رہ جائیں گے۔ کامل روزےدار تو وہی ہے جس نے قرآن و حدیث کے احکام و اطاعت کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال کر پوری پوری وفاداری کے ساتھ روزہ رکھا۔

آئیں ہم سب عہد کریں کہ ہم ان روزوں میں اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کریں اور غفلت شعاری سے باز آجائیں۔ اگر ہم اپنے عہد میں سچے ہیں تو اللہ تعالٰی یقیناً ہماری مدد فرمائے گا۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.