حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مہینے میں ماسوائے رمضان کے اتنے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا جس قدر روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اس رجب اور رمضان کے درمیان والے مہینے کی فضیلت سے غافل ہیں۔ حالانکہ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ تعالٰی کے سامنے میری روزہ داری کی حالت میں پیش ہوں”۔
(ابوداؤد و نسائی)
فائدہ:۔
ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رہا ہے۔ ماہ شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ نفلی روزے رکھنے کے کئی سبب اور کئی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ جن میں سے بعض وہ ہیں جن کی طرف بعض حدیثوں میں بھی اشارہ ملتا ہے۔
اس حدیث مبارکہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس ماہ مبارک کی ایک خاص عظمت و فضیلت بیان فرمائی ہے کہ جس کی طرف سے امت غافل ہے۔ اس ماہ کی خاص عظمت و فضیلت یہ ہے کہ اس میں انسان کے اعمال اللہ تعالٰی کے حضور پیش ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اللہ تعالٰی کے روبرو پیش ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوں اور ایک اور حدیث میں کچھ اس طرح ہے کہ اس ماہ مبارک میں پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست ملک الموت کے حوالے کی جاتی ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دیئے جائیں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب شعبان کے پورے مہینے روزے رکھتے تھے۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
