حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالٰی اس بندے سے بڑا خوش ہوتا ہے جو کھانا کھائے تو اس اللہ کا شکر ادا کرے اور پانی پیئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
کھانا پینا جس میں انسان کو بھوک و زبان کی لذت کا سامان ہے۔ اگر کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ اور کھانے پینے کے آخر میں اللہ تعالٰی کی حمد اور شکر ادا کیا جائے تو کھانے پینے کا یہ بظاہر خالص مادی عمل اور بشری تقاضہ ایک روحانی عبادت بن جاتی ہے اور اس پر خدا پرستی اور عبادت کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ دراصل ہر وہ عمل جو جہ اللہ کے حکم اور شریعت کی تعلیم کے مطابق ہے۔ اللہ تعالٰی کی رضا کی خاطر اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید میں اجروثواب کی امید پر یقین کے ساتھ انجام دینا عبادت ہی ہے اور یہ بات ہر عادت کو عبادت بنا دیتی ہے، اور یہ روح نکل جائے تو ہر عبادت خالی عادت اور محض رسم اور نفس کی پیروی رہ جاتی ہے۔ اس طرح صرف اخلاص نیت سے اور سنت کی اتباع کی نیت سے انشاءاللہ تعالٰی کھانا پینا بھی نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔
