حب مال و حب جاہ کی تباہ کاریاں

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے بڑھ کر تباہ نہیں کرتے جتنامال اور عزت و جاہ کے لیے انسان کی حرص اس کے دین کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دیتی ہے”۔
(ترمذی و دارمی)


فائدہ:۔
دین کیا ہے؟ زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکامات کو اختیار کرنا، اس طور پر زندگی بسر کرنا کہ انسان کی پوری زندگی احکام خداوندی کی تابع بن کر رہ جائے۔ اس کے کردار و اعمال سے صاف ظاہر ہو کہ وہ اللہ تعالٰی کی عزت و عظمت اور اس کے جمال و کمال پر قربان ہے۔ اس کی ساری وفاداریاں ایک اللہ کے لیے مخصوص ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایسے شخص کی دلی تمنا یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کے سامنے اپنے آپ کو انتہا درجہ تک پست کردے تاکہ اس کے اللہ کی برتری نمایاں ہو۔ وہ اس بات کا آرزومند ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت میں وہ اس طرح سرشار ہو کہ یہ چیز اسے فانی اشیاء کی محبتوں سے بے نیاز کردے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کو صحیح معنوں میں اللہ کا علم ہوگیا۔ اس کی نگاہ میں اللہ تعالٰی کے مقابل میں نہ کہیں اور کوئی عزت و عظمت ہے اور نہ اس کے مقابل میں کہیں کوئی دل کشی و جاذبیت پائی جاتی ہے۔ جس کے لیے اس کے دل بےتاب و مضطرب ہوسکے۔ یہی اصل دین ہے۔ اب اگر کوئی شخص دنیاوی مال و متاع اور دنیاوی عزت و مرتبہ اور شہرت کا بھوکا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ دین اور اس کی لذتوں سے بالکل ناآشنا ہے۔ وہ اگر اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تو اس کے دین کی تباہی میں کیا شبہ باقی رہتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو گویا بکری کے ساتھ مشابہت دی ہے اور حرص کا مشابہ بھیڑیئے کو قرار دیا ہے۔ لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ اگر دو بھوکے بھیڑیوں کو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے تو وہ بھی اس ریوڑ کو اس طرح تباہ و برباد نہیں کرتے جس طرح ایک انسان کی حرص، حب مال اور حب جاہ، یعنی عزت و مقام اس کے دین کو اور اللہ تعالٰی کے ساتھ اس کے تعلق کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

انسان کے دل کی خواہشات ہر میدان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اب اگر وہ ان خواہشات کے پیچھے پڑے گا، ان ہی کو اپنا قبلہ مقصود بنائے گا اور فکر کے گھوڑے ہر طرف دوڑاتا رہے گا تو اللہ تعالٰی کی رحمت خاص سے دور ہوتا جائے گا۔ اللہ تعالٰی کو اس کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ کہاں تباہ و برباد ہوتا ہے، لیکن اگر اس کے برعکس وہ اللہ تعالٰی پر توکل کرکے راہ راست پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی بندگی میں لگا رہتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اللہ اس کے دین و ایمان اور اخلاق کی حفاظت فرمائےگا بلکہ اس کی ساری ضروریات کے معاملے میں بھی وہ اس کے لیے کافی ہوجائےگا۔ اللہ تعالٰی اسے ایسا سکون و اطمینان عطا کرے گا۔ جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دولت نہیں ہے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ: حرص و طمع سے بچو کیونکہ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ حرص و طمع ہی کے سبب سے تباہ ہوئے اسی نے انہیں بخل پر ابھارا تو انہوں نے بخل اختیار کیا۔ اسی نے انہیں قطع رحمی کے لے آمادہ کیا تو وہ قطع رحمی کے مرتکب ہوئے اسی نے انہیں فسق و فجور پر اکسایا تو وہ نسق و فجور میں مبتلا ہوئے۔(بحوالہ ابوداؤد)۔

اس حدیث مبارکہ سے بھی اندازہ ہوسکتا ہے کہ حرص سے انسان کا دین کس طرح تباہ و برباد ہوتا ہے اور کس طرح یہ چیز خود اس کے لیے بھی موجب ہلاکت ثابت ہوتی ہے۔ حرص اور تنگ دلی کی وجہ سے ہی پچھلی قوموں نے بخل کو اپنا شعار بنایا اورپھر اس بخل نے انہیں ہر ظلم و ستم پر آمادہ کیا۔ انہوں نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں تک کے حقوق پامال کیے اور اس کی وجہ سے ہر قسم کے فسق و فجور کا ارتکاب کیا اور بالآخر وہ اللہ تعالٰی کے عذاب کے مستحق ہوکر رہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو حب مال و حب جاہ سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.