حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان (بہت سی چیزیں) شبہے والی ہیں، جن کی حقیقت سے اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں۔ پس جو شخص شبہے والی چیزوں سے بچ گیا۔ اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں گرگیا (یعنی انہیں اختیار کرلیا)۔ وہ حرام میں مبتلا ہوگیا۔ جیسے وہ چرواہا ہے جو (کسی کی مخصوص) چراگاہ کے اردگرد(اپنے جانوروں کو) چراتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کے جانور اس چراگاہ کے اندر داخل ہوکر اسے بھی چرنا شروع کردیں گے۔ سنو! ہر بادشاہ کی رکھ(مخصوص چراگاہ) ہوتی ہے(جس میں داخل ہونے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی)۔ سنو! اللہ کی رکھ، اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں(جن کے قریب کسی کے لیے جانا جائز نہیں)۔ سنو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ صحیح ہوتا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو سارا جسم انسانی خراب ہوجاتا ہے اور وہ (گوشت کا ٹکڑا) دل ہے”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
اسلام نے انسان کی فضیلت و بزرگی اور نجات کا جو معیار مقرر کیا ہے وہ تقوٰی اور پرہیزگاری ہے۔ اسی لیے اسلام نے جتنی عبادات فرض کی ہیں ان کا مقصد بھی حصول تقوٰی قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ تقوٰی ہی ہے کہ انسان ایسے معاملات و امور جو کہ شبہے میں ڈالنے والے ہوں انہیں اختیار کرنے سے گریز کرے اور جو شخص ان معاملات و امور میں حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر ان میں ملوث ہوگیا تو سمجھ لو کہ وہ حرام میں مبتلا ہوگیا، یعنی تمام قسم کے معاشی و مالی معاملات اور دوسرے معاملات میں وہ ذریعے اختیار کیے جائیں جو واضح طور پر حلال ہوں اور مشتبہ معاملات و امور سے پرہیز کیا جائے۔ اس حدیث مبارکہ میں دوسری اہم بات دل کے متعلق بتائی گئی ہے کہ سارے جسم کی اصلاح اور فساد کی بنیاد یہی دل ہے۔ اس لیے دل کی اصلاح بہت ضروری ہے اور بےشک اس کی اصلاح ایمان و تقوٰی کے بغیر ممکن نہیں۔
