عیب جوئی

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کا بیان ہے کہ: ”میں نے (ایک مرتبہ کسی موقع پر) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کردیا کہ کہ صفیہ (رضی اللہ تعالٰی عنھا) بس اتنی سی ہے (یعنی اس کے حسن وغیرہ کی کوئی مزید خامی بتانے کی ضرورت نہیں ہے، پستہ قد ہونا ہی کافی ہے) یہ سن کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو سمندر کو بھی بگاڑ ڈالے۔ یہ واقعہ بتا کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے بیان فرمایا کہ میں نے ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی نقل اتاری، اس پر سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ کسی شخص کی نقل اتاروں اگرچہ مجھے ایسا کرنے پر (دنیا کی) اتنی اتنی دولت مل جائے”۔
(ابوداؤد)


فائدہ:۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے قدوقامت، ہاتھ، پاؤں، ناک کان وغیرہ کو عیب دار بتانا (اگرچہ واقعہ عیب دار ہو) اور کسی کی بات یا چال ڈھال کی نقل اتارنا گناہ ہے اور سخت ممنوع ہے عام طور سے کسی کے ہکلانے یا لنگڑا کر چلنے یا توتلانے یا نظر گھمانے کی نقل اتاری جاتی ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں سمجھا جاتا، جس کی وجہ سے سخت گناہگار ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ گناہ حقوق العباد سے ہے اس لیے جب تک بندہ سے معافی نہ مانگی جائے توبہ سے بھی معاف نہ ہوگا۔

حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنھا بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ تھیں ان کا قد کچھ چھوٹا تھا چناچنہ ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے اس عیب کا ذکر کیا اور ظاہر ہے اس طرح انہوں نے مذکورہ الفاظ اپنی زبان سے ادا کیے جوکہ غیبت تھی، اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور مذکورہ ارشادگرامی کے ذریعہ گویا ان پر واضح کیا کہ تم نے جو بات کہی ہے وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اس قدر ہیبت ناک ہے کہ اگر بالفرض اس کو کسی دریا میں ملادیا جائے تو دریا اس کے سامنے ہیچ ہوجائے اور یہ چند الفاظ اس دریا کی وسعت و عظمت کے باوجود اس پر غالب آجائیں اور اس کو متغیر کردیں اور جب ان الفاظ کے مقابلہ پر دریا کا یہ حال ہے تو سوچو کہ تمہارے اعمال کا کیا حشر ہوسکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے اس درجہ کے عیب کو بھی قصدًا حقارت بیان کرنا کہ فلاں شخص کوتاہ قد ہے، غیبت ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمارے لیے کس قدر باعث عبرت ہے۔ ہر شخص غور کرے کہ کتنے انسانوں کے اعضاء، جسم میں اب تک کیڑے نکالے ہیں اور کتنے لوگوں کی چال ڈھال کو عیب دار بتایا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے لنگڑے کو لنگڑا کہا ہے اور بہرے کو بہرہ، اندھے کو اندھا کہہ کر بلایا ہے اور یہ بات حقیقت اور واقعہ کے خلاف نہیں ہے۔ جھوٹ ہوتا تو قابل گرفت ہوتا؟ مگر یہ حیلہ شرعاً بالکل بے معنی ہے۔ گناہ کا دارومدار ناگواری پر ہے۔ بات کے جھوٹا سچا ہونے پر نہیں ہے۔ غور کریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے جو قد بتایا جھوٹ بات نہ تھی، مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت تنبیہ فرمائی۔

ہوش مند بندے وہی ہیں جو اپنی زبان پر قابو رکھتے ہیں۔ تیری میری برائی میں نہیں پڑتے نہ غیبت سنتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ خوب زیادہ ذکر و تلاوت کرتے ہیں۔ نمازیں بھی لمبی لمبی پڑھتے ہیں اور بھی طرح طرح کی نیکیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ غیبتوں اور تہمتوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ اس لیے اپنی ساری نیکیوں کو اپنے حق میں مٹی کردیتے ہیں۔ جن کے حق دبائے، غیبتیں کیں یا غیبتیں سنیں، یہ دونوں بھاری بوجھل نیکیاں ان کو دے دی جائیں گی اور ان کے گناہ اپنے سر پر اٹھائیں گے اور اس وقت حیران کھڑے رہ جائیں کے اور دوزخ کا عذاب بھگتنا پڑے گا۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے غیبت کرنے، غیبت سننے، تہمت لگانے، گالی دینے، کسی کی نقل اتارنے، کسی کا مذاق اڑانے سے اپنی حفاظت فرمائے اور جن لوگوں کے حقوق دبائے ہیں یا غیبتیں کی ہیں یا کسی کے حق میں کسی بھی طرح سے آگے یا پیچھے کوئی کلمہ ایسا کہا ہے جو ناگواری کا باعث ہوتو ان سب سے معافی مانگے، اگر ملاقات ہونے کی صورت نہ ہوتو خط کے ذریعہ معافی طلب کرے۔ اگر کوئی شخص مرگیا ہوتو مالی حق اس کے وارثوں کو دے دے اور دوسری چیزوں کی معافی کے واسطے مرنے والوں کے لیے اتنی زیادہ دعائے مغفرت کرے جس سے یہ یقین ہو جائے کہ اس کی جو غیبت اور برائی کی تھی یا تہمت لگائی تھی یا مذاق اڑایا تھا اس کی تلافی ہو گئی۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.