حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”قیامت کے روز سب لوگوں سے زیادہ اونچی گردن والے (یعنی سربلند) مئوذن (اذان دینے والے) ہوں گے۔
(مسلم)
فائدہ:۔
وہ تمام چیزیں جو اسلام اور مسلمانوں کی علامت سمجھی جاتی ہیں ان کو شعائر اسلام کہا جاتا ہے جیسے قرآن کریم، حرمین شریف، مسجدیں، مقدس مقامات، نماز وغیرہ، اذان بھی شعائر اسلام میں سے ہے اور احادیث میں اذان دینے کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ اذان اللہ تعالٰی کے اذکار میں ایک بہت بڑے رتبہ کا ذکر ہے اس میں توحید اور رسالت کی شہادت اعلان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان دینے کی فضیلت اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اگر ہم غور کریں تو اذان کے ان چند کلمات میں دین کے بنیادی اصولوں کا کس قدر جامع اعلان ہے اور کتنی جاندار اور موثر دعوت ہے۔ گویا ہماری مسجدوں سے روزانہ پانچ وقت دین کی یہ بلیغ دعوت نشر کی جاتی ہے۔ آج کل مسجدوں میں تو عموماً مئوذن مقرر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص مسجد کے علاوہ کسی ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو جہاں تک اذان کی آواز نہیں پہنچتی ہے تو وہاں بھی نماز سے پہلے اذان مسنون ہے اور ایسے موقع پر اذان کی یہ فضیلت ضرور حاصل کرنی چاہیے اور کبھی بھی موقع ملنے پر اس فضیلت حصول میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث مبارکہ میں اونچی گردن والوں کے معنی کے تعین میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اذان دیتے ہیں وہ قیامت کے روز بہت زیادہ ثواب والے اور اونچے مرتبے والے ہوں گے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ مئوذن قیامت کے روز سردار ہوں گے، کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز مئوذن بہت زیادہ ثواب کے امیدوار ہوں گے کہ اب جنت میں داخلے کا حکم کیا جائے گا۔
اذان اور مئوذن کی جو غیر معمولی فضیلتیں احادیث سے معلوم ہوتی ہیں ان کا راز یہی ہے کہ اذان ایمان واسلام کا شعار اور اپنے معنی و ترتیب کے لحاظ سے دین کی نہایت بلیغ اور جامع دعوت و پکار ہے اور مئوذن اس کا داعی اور گویا اللہ تعالٰی کا نقیب اور منادی ہے۔ اگر آج ہم مسلمان اتنا ہی کرلیں کہ اپنے ہر بچے کو اذان یاد کرادیں تو انشاءاللہ تعالٰی وہ کبھی کسی غیر اسلامی دعوت کا شکار نہ ہوں گے، افسوس آج ہم مسلمانوں نے اس حقیقت کو بالکل بھلا دیا ہے اور اذان دینا ایک حقیر پیشہ بن گیا ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے اس عظیم ترین اجتماعی گناہ کو معاف فرمائے اور توبہ و اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ناگاہ فضا بانگ اذاں سے ہوئی لبریز
وہ نعرہ کہ ہل جاتا ہے جس سے دل کہسار
