بیمار اور حاجت مندوں کے حقوق

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اللہ تعالٰی قیامت کے دن فرزندِ آدم سے فرمائے گا کہ، اے ابن آدم! میں بیمار پڑا تھا تونے میری خبر نہیں لی؟ بندہ عرض کرے گا کہ، اے میرے مالک اور پروردگار! میں کیسے تیری تیمارداری یا بیمار پرسی کرسکتا تھا، تُو تو رب العالمین ہے (بیماری کا تجھ سے کیا واسطہ اور تیری بارگاہ میں اس کا کہاں گذر) اللہ تعالٰی فرمائے گا، کیا تجھے علم نہیں ہوا تھا کہ فلاں بندہ بیمار پڑا تھا تونے اس کی عیادت نہیں کی اور خبر لی، کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اس کی خبر لیتا اور تیمارداری کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا، اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تونے مجھے نہیں کھلایا؟ بندہ عرض کرے گا، (خداوند!) میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا تھا تُو تو رب العالمین ہے (تجھے کھانے سے کیا واسطہ!) اللہ تعالٰی فرمائے گا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تونے اس کو کھانا نہیں دیا۔ کیا تجھے علم نہیں ہے کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو اس کو میرے پاس پالیتا، اے ابن آدم میں نے پینے کے لیے تجھ سے (پانی) مانگا تھا، تونے مجھے نہیں پلایا؟ بندہ عرض کرے گا، میں تجھے کیسے پلاتا تُو تو رب العالمین ہے (تجھے پینے سے کیا واسطہ!) اللہ تعالٰی فرمائے گا، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا تونے اس کو نہیں پلایا، سن! اگر تو پانی پلا دیتا تو اس کو میرے پاس پالیتا”۔
(مسلم)


فائدہ:۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کسی حاجت مند اور بیمار کی خدمت و عیادت کرے گا وہ اللہ تعالٰی کو اس کے پاس پائے گا اور اس طرح اسے خدا مل جائے گا۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو بیماروں کی عیادت اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.