حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ: ”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں۔ ”(جب صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہ الفاظ ارشاد فرمائے اور اس شخص کی وضاحت نہیں کی تو) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ شخص کون ہے؟ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس بدنصیب شخص کے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرما رہے ہیں کہ مومن نہیں۔ اور اس میں ایمان نہیں)” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”وہ شخص جس کے پڑوسی اس کی برائیوں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون اور بے خوف نہ ہوں”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
انسان فطری طور پر معاشرتی زندگی گزارتا ہے اور معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے بہت سی ذمہ داریاں قبول کرتا ہے۔ دین اسلام نے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کے لیے بہت سے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ تاکہ ایک ایسا پرامن، فلاحی، اسلامی معاشرہ وجود میں آئے جس میں ہر کسی کے حقوق کی ضمانت مہیا کی گئی ہو۔ انہی ذمہ داریوں میں ہمسائے کے حقوق بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ جن کو ادا کیے بغیر معاشرے کے قیام کا تصور محال ہے۔ ہمسایہ وہ ہے جو آپ کے گھر کے قریب ہو۔ اس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے۔ اگر وہ نسب میں آپ سے قریب ہو اور مسلمان ہوتو اس کے تین حق ہیں۔ ہمسائیگی، قرابت داری اور اسلام کا حق۔ اسی طرح وہ نسب میں قریب ہے لیکن مسلمان نہیں تو اس کے دو حق ہیں۔ ایک ہمسائیگی کا اور دوسرے قرابت داری کا اور اگر وہ رشتہ دار بھی نہیں ہے تو اس کا ایک حق ہے یعنی ہمسائیگی کا حق۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: ”اور اللہ تعالٰی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں (سب) کے ساتھ احسان کرو”۔ (النساء۔ 36)۔
یہاں اللہ تعالٰی نے ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق اور حاجتمندی کے مطابق بیان فرمایا ہے اوران کی ادائیگی کا حکم دیا ہے سب سے مقدم اللہ تعالٰی کا حق ہے۔ پھر ماں باپ کا پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجتمندوں کا اور قریبی اور اجنبی ہمسایوں کا۔
اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ شخص اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی تک محفوظ نہیں۔ اس دعوٰی ایمان کا اللہ تعالٰی کے یہاں کیا وزن ہوسکتا ہے جس کا عمل کی دنیا میں کہیں پتہ و نشان نہیں ملتا۔ اس درخت کو درخت کہنا فضول ہے جس میں سرسبزی و شادابی نام کو بھی نہیں پائی جاتی۔ اس چراغ کو چراغ کیسے کہا جا سکتا ہے جو نہ خود روشن ہے نہ اپنے ماحول کو روشنی دیتا ہے۔
حدیث کے الفاظ میں غور کرکے ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کیسے جلال سے معمور ہے۔ اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوگا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطاب کا انداز کیا رہا ہوگا۔ بہرحال اس پُرجلال ارشاد کا پیغام یہ ہے کہ ایمان والوں کے لیے لازم ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اور رویہ ایسا شریفانہ رہے کہ وہ ان کی طرف سے بالکل مطمئین اور بےخوف رہیں۔ ان کے دلوں دماغوں میں بھی ان کے بارے میں کوئی اندیشہ اور خطرہ نہ ہو۔ اگر کسی مسلمان کا یہ حال نہیں ہے اور اس کے ہمسائے اس سے مطمئین نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے ایمان کا مقام نصیب نہیں۔ نبوت کی زبان میں کسی عمل کی سخت تاکید اور دین میں اس کی انتہائی اہمیت جتانے کے لیے آخری تعبیر یہی ہوتی ہے کہ اس میں کوتاہی کرنے والا مومن نہیں۔ افسوس! کہ اس طرح کی حدیثیں ہمارے معاشرے میں اب کلامی بحثوں کا موضوع بن کر رہ گئی ہیں۔ شاذونادر ہی اللہ کے وہ خوش نصیب بندے ہوں گے جو اس طرح کی حدیثیں پڑھ کر اور سن کر زندگی کے اس اہم شعبہ کو درست کرنے کی فکر میں لگ جائیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مقصد و مدعا یہی ہے۔ اس طرح کی حدیثیں پڑھنے اور سننے کے بعد بھی اپنے ہمسایوں کے ساتھ برتاؤ اور رویہ کو بہتر اور خوشگوار بنانے کی فکر نہ کرنا بلاشبہ شقاوت اور بدبختی کی نشانی ہے۔
یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس حدیث مبارکہ میں مسلم اور غیر مسلم ہمسائے کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی امت کو توفیق دے کہ وہ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ہدایتوں کی قدروقیمت کو سمجھیں اور اپنے آپ کو صحیح مومن کی مثال بنائیں تاکہ دیگر قوموں کو اسلام کی جامعیت اور ہمہ گیریت کا علم ہوسکے۔ آمین۔
