اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا، سب سے اچھا آدمی کون ہے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ارشاد فرمایا: ”وہ مومن جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کررہا ہو”۔ پوچھا پھر کون؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ارشاد فرمایا: ”پھر وہ مومن ہے جو کسی گھاٹی میں رہ کر اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہے، اور لوگوں کو اپنے شروفساد سے بچائے ہوئے ہے”۔
(بخاری و مسلم)


فائدہ:۔
ایمان والوں سے اللہ تعالٰی کا ایک خاص مطالبہ اور تاکید یہ بھی ہے کہ اللہ کے دین کو زندہ اور سربلند رکھنے کے لیے اور اس کو زیادہ سے زیادہ رواج دینے کے لیے کوشش کی جائے، اور دین کی خاص زبان میں اس کا نام جہاد ہے۔

یہ وہ عمل ہے جس کی دعوت اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں کم و بیش ساڑھے چار سو مرتبہ دی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس راستے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود ستائیس بار نکلے۔ یہ وہ عمل ہے جو جنت کے راستوں کا نشان ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں راحت و سکون ہے۔ جس میں عزت و سر بلندی ہے۔ جس سے آدمی غلامی کی زنجیریں توڑ دیتا ہے۔

اللہ تعالٰی اپنے ایمان والے بندوں سے ایک جگہ اس طرح ارشاد فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتاؤں جو تم لوگوں کو دکھ کے عذاب سے نجات دلا دے، (پس سنو) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کو استوار رکھو اور (بوقت ضرورت) اللہ کی راہ میں (یعنی اس کے دین کے لیے) اپنے مالوں اور جانوں کے ذریعے سے جہاد کیا کرو۔ یہ کام تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اگر تم جانتے ہو (ایسا کرنے پر) خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور غیر فانی جنت کے عمدہ مکانوں میں تم کو بسائے گا۔ یہ تمہاری بڑی کامیابی اور بامرادی ہے”۔ (الصف۔ 12۔10)۔

اس حدیث میں یہی بتایا گیا ہے کہ سب سے بلند مرتبہ انسان وہ ہے جو اسلام اور اہل اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنے مال اور جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اس کے بعد درجہ میں وہ ہے جو پروردگار کی عبادت میں لگا رہتا ہے اور دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنتا۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.