عمل کی بنیاد

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”تمام کاموں کا دارومدار نیت پر ہے (یعنی آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملتا ہے) تو جس شخص نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہجرت کی (اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی و اطاعت کے سوا اس کی ہجرت کا اور کوئی سبب نہیں تھا) تو اس کی ہجرت اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے ہوئی (اور بے شک وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا مہاجر ہے اور اس کو اس کا اجر ملے گا) اور جس نے کسی دنیاوی غرض کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت (اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ ہوگی بلکہ) اسی چیز کے لیے ہوگی جس کا اس نے ارادہ کیا”۔
(بخاری و مسلم)


فائدہ:۔
اللہ تعالٰی کے یہاں قدروقیمت اسی عمل کی ہوگی جو اچھی نیت سے کیا گیا ہو۔ جو نیت عمل کسی بری غرض سے کیا گیا ہو وہ قبول نہ ہوگا۔ برا کام کسی اچھی نیت سے کیا جائے تو وہ نیک کام نہیں بن جائے گا۔ اس نیت سے چوری کی کہ غریبوں کی مدد کروں گا، اس پر ثواب تو کیا ملے گا الٹا گناہ ہوگا کہ یہ اللہ کے دین کے ساتھ مذاق ہے۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.