حضرت صہیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اسکے ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام ملے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور اس میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے اور اگر اس کو کوئی دکھ اور تکلیف ملے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کے لیے سراسر خیر اور برکت کا سبب ہے”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
اس دنیا میں خوشی بھی ہے اور غم بھی، راحت بھی ہے اور تکلیف بھی، سردی بھی ہے اور گرمی بھی، خوشگواری بھی اور ناخوشگواری بھی اور یہ سب کچھ اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔ اس لیے جب کوئی دکھ اور مصیبت آئے تو وہ مایوسی کا شکار نہ ہو بلکہ دل میں اس بات کا یقین رکھے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس میں اللہ تعالٰی کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ اسی طرح جب خوشی اور آرام ملے تو اس کو اپنا کمال اور اپنی کوششوں کا نتیجہ نہ سمجھے بلکہ اس وقت بھی یقین رکھے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالٰی کی مرضی کے مطابق گزارے۔
