زکوٰہ ادا نہ کرنے کا انجام

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جس شخص کو اللہ تعالٰی نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوٰہ ادا نہیں کی تو اس کا مال قیامت کے دن نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا۔ جس کے (سر پر) دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ قیامت کے دن اس (کے گلے) کا طوق بن جائے گا پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا، میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمایا: ”وہ لوگ جو اس چیز میں بخل کرتے ہیں جسے اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے اچھا ہے۔ بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے جو کچھ انہوں نے بخل کیا ہوگا۔ آگے وہی قیامت کے دن ان (کے گلے) کا طوق بن جائے گا”۔
(بخاری و مسلم)


فائدہ:۔
دین اسلام میں ایمان و اعتقاد کے بعد جن دو اہم ارکان کا تذکرہ قرآن و حدیث میں بہت زیادہ ملتا ہے وہ نماز اور زکٰوہ ہیں اور ایسا بہت کم واقع ہوا ہے کہ نماز کا ذکر ہو لیکن زکوٰہ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دیر نہیں لگتی کہ جس طرح نماز حقوق الٰہی اور عبادات ربانی کی بنیاد ہے اسی طرح زکوٰہ حقوق بندگان الٰہی کی اساس و بنیاد ہے۔ کامل انسان وہی ہے جو حقوق الٰہی کے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق کے بارے میں بھی کسی سستی، کاہلی اور پس و پیش میں نہ پڑے۔ پورا قرآن کریم انفاق و ایثار کے حکم سے بھرا ہوا ہے۔ ایک مقام پر تو اللہ تعالٰی انفاق کو تمام کامیابیوں کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے۔

”تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے۔ پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے۔ اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے) تو وہ تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ اللہ بڑا قدردان، بڑا بردبار ہے”۔ (التغابن ۔ 17 ۔ 15)۔

ان آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کو کامیابی سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر زکٰوہ نہ ادا کرنے والے کو اس کے آخرت کے انجام سے خبردار کیا ہے۔ یعنی زکوٰہ ادا کرنے سے جو مال قیامت کے دن اس کی راحت و آرام کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو بخیل شخص اور زر پرست، حب مال کے سبب اپنی دولت سے لپٹا رہتا ہے۔ اپنے مال پر سانپ بنا بیٹھا رہتا ہے۔ فرض زکوٰہ ادا نہیں کرتا اور دوسروں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیتا۔ اس کا انجام آخرت میں اس شکل میں اس کے سامنے آئے گا کہ اس کی مال و دولت کا خزانہ اس کے لیے بن جائے گا اور اسے ڈستا رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو مزید سمجھانے کے لیے قرآن مجید کے سورہ آل عمران کی آیت 180 کی بھی تلاوت فرمائی۔ جس میں اللہ تعالٰی نے صراحت کے ساتھ ان بخیل لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔

جو شخص اللہ تعالٰی کی عطا سے حاجت مندوں کا حق نہیں نکال سکتا ہو۔ جس کا دل اتنا تنگ ہو چکا ہو۔ جا اتنا خود غرض ہوچکا ہو۔ اتنا زر پرست بن چکا ہو تو پھر اس کا نفس بھی ناپاک، مال بھی ناپاک اور دل بھی ناپاک رہ جائے گا تو زکٰوہ ایمان والوں کے لیے ایک آزمائش ہے۔ کھرے کھوٹے کی پہچان ہے۔ مطیع اور سرکش کے درمیان تقسیم کی دیوار ہے۔ ایسا شخص جو اللہ کے دین سے ، اللہ کے حکم پر اللہ کے مستحق بندوں کی مدد پر لبیک نہ کہ سکے تو خود بخود وہ اہل ایمان کی صفوں سے دور ہوجاتا ہے اور روز آخرت یہی مال اس کے گلے کو طوق بن جائے گا۔ اللہ تعالٰی ہر مسلمان صاحب نصاب کو زکوٰہ کی ادائیگی کی اور آخرت کے اس انجام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.