روزہ اور زکوٰہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”ہر چیز کی زکٰوہ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰہ روزہ ہے”۔
(ابن ماجہ)


فائدہ:۔
نظامِ دین میں ارکانِ اسلام نماز، روزہ، حج اور زکٰوہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان ارکان کا تعلق اپنے ظاہر اور باطن دونوں لحاظ سے براہ راست اللہ تعالٰی سے ہے۔ انسان کے اندر عبدیت کی روح بیدار کرنے اور بندگی کا ذوق پیدا کرنے میں ارکان اسلام کا بڑا دخل ہے۔ انہی ارکان اسلام پر درحقیقت دین کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

دینِ اسلام درحقیقت اللہ اور اس کے بندوں، دونوں کے حقوق کیا ادائیگی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ تعالٰی کے بعد ہم پر اس کے بندوں کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ نماز اور زکٰوہ ہمیں انہی دو قسموں کے حقوق کی یاد دلاتے ہیں۔ زکٰوہ ادا کرکے انسان صرف ایک فرض کی ادائیگی سے ہی سبکدوش نہیں ہوتا بلکہ اس کی اپنی تکمیل ہوتی ہے۔ تکمیل و تزکیہ ہی احکام شریعت کا بنیادی مقصد ہے۔ جس چیز کا نام دین میں حکمت ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ علم و بصیرت کے ساتھ انسان کے نفس کی تربیت اور تزکیہ ہو۔ زکوٰہ کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ اس سے آدمی تزکیہ حاصل کرے۔ زکٰوہ کے معنی پاکیزگی اور صفائی کے ہیں۔ زکوٰہ ادا کرنے سے آدمی خود غرضی، تنگ دلی اور زر پرستی کی بری صفات سے نجات پاتا ہے۔ اس کی روح کو پاکیزگی اور بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔

”اور اس (جہنم) سے دور رکھا جائے گا وہ شخص جو اللہ کا ڈر رکھتا ہے اور اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے، تزکیہ حاصل کرنے کیلیے”۔ (الیل۔ 17۔18)۔

یعنی جو شخص اپنا مال اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس اور اس کا مال بھی پاک ہوجائے گا وہ شخص جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔

زکٰوہ ادا کرنے سے آدمی کا نفس بھی پاک ہوتا ہے اور اس کا مال بھی پاک ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ خود غرض ہے کہ اللہ تعالٰی کی بخشی ہوئی دولت میں سے اللہ تعالٰی کے بندوں کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا مال بھی ناپاک رہتا ہے اور اس کا نفس بھی ناپاک رہتا ہے۔ نفس انسانی کے لے تنگ دلی، احسان فراموشی اور خود غرضی سے بڑھ کر گھٹن اور ناپاکی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ زکٰوہ ان لوگوں کے مسئلہ کا حل ہے جو غریب اور محتاج ہیں۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کریں اور کوئی بھائی ننگا، بھوکا اور ذلیل و خوار نہ ہونے پائے۔ ایسا نہ ہو کہ جو امیر ہیں وہ تو اپنے عیش و آرام ہی میں مست رہیں اور قوم کے یتیموں، محتاجوں اور بیواؤں کا کوئی پرسان حال نہ ہو۔ انہیں یہ بات محسوس کرنی چاہیے کہ ان کی دولت میں دوسرے حاجت مندوں کا بھی حق ہے۔

اس حدیث مبارکہ سے بھی زکٰوہ کا بنیادی مقصد معلوم ہوتا ہے یعنی تزکیہ نفس۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن کی زکوٰہ کو روزہ قرار دیا ہے۔ دراصل روزہ بھی بذات خود ایک تزکیہ نفس کا عمل ہے۔ نفس انسانی کے تزکیہ اور تربیت میں ماہ رمضان کو جو مقام حاصل ہے وہ ہر صاحب علم جانتا ہے۔ یہ تیس روزوں کا لازمی تربیتی پروگرام ہر سال جھولی بھر لینے کے لیے اور نفس کی اصلاح اور تزکیے کے لیے آتا ہے۔ اس طرح یہ بات بھی خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ ارکان اسلام ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح مربوط ہیں۔

چونکہ زکٰوہ کا مفہوم پاکیزگی اور طہارت ہے جو کہ انسان کے مال کو پاک و صاف کرتی ہے۔ اسی طرح بدن کی زکوٰہ یعنی بدن کی جسمانی صحت و تندرستی اور بدن کی روحانی پاکیزگی و طہارت کا ذریعہ روزہ ہے۔ کیونکہ روزہ کی وجہ سے اگرچہ بظاہر جسم کی طاقت و قوت کا کچھ حصہ کم ہوتا اور ناقص لگتا ہے مگر حقیقت میں روزہ جسم کی نشونما اور صحت و تندرستی میں برکت و اضافہ کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے بدن گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.