نماز ضحٰی کی فضیلت

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”صبح ہوتی ہے تو تم میں سے ہر شخص کے ہر جوڑ و بند پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔ پس ہر تسبیح (یعنی سبحان اللہ) ایک صدقہ ہے اور ہر تحمید (یعنی الحمدللہ) ایک صدقہ ہے اور ہر تہلیل (یعنی لا الہ الا اللہ) ایک صدقہ ہے اور ہر تکبیر (یعنی اللہ اکبر) ایک صدقہ ہے۔ بھلائی کا حکم دینا ایک صدقہ ہے اور برائی سے روکنا ایک صدقہ ہے اور ان سب کے بدلے میں وہ دو رکعتیں کافی ثابت ہوتی ہیں جن کو بندہ بوقت چاشت ادا کر لیتا ہے”۔
(مسلم)


فائدہ:۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے اور اس کے جسم کی ایک ایک ہڈی اور ایک ایک جوڑ آفت و بلا سے صحیح سالم ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ کاروبار اور دنیا کی دیگر مصروفیات میں مشغول رہنے کے قابل رہتا ہے۔ انسان کو ہر روز صبح ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ گزرے ہوئے کل کی طرح اسے پھر ایک دن میسر ہوتا ہے۔ یہ زندگی اللہ تعالٰی کی بے انتہا مہربانیوں اور عنایتوں کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اس حدیث میں مطور مثال انسانی جسم کی ہر ہڈی اور جوڑ کا ایک نعمت کی حیثیت سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کی ہر نعمت اور بخشش انسان سے اظہار شکر کی طالب ہوتی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ بندہ انفاق اور صدقے کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی کے ہر احسان پر شکر ادا کرے۔ کیونکہ یہ اپنے جذبے میں صادق ہونے کا بین ثبوت قرار پاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں پر خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے تسبیح اور تحمید وغیرہ کے کلمات اور دوسرے نیک اعمال جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو صدقہ قرار دیا ہے۔ یعنی یہ صدقات صرف چند کلمات ہیں جون کو پڑھنے سے ایک ایک ہڈی اور ایک ایک جوڑ کی طرف سے صدقہ ادا ہوجاتا ہے اور وہ کلمات بھی بھاری بھر کم نہیں ہیں۔ زیادہ طویل اور سخت نہیں ہیں بلکہ نہایت آسان اور بلا تکلیف ادا ہونے والے ہیں۔ یعنی سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ اور اللہ اکبر کہنا۔ اس طرح بندے کے لیے ممکن ہوسکا کہ وہ اللہ تعالٰی کے احسانات کا شکر ادا کرنے کی حالت میں ہوسکے۔

جسطرح عشاء کے بعد سے لے کر فجر تک کے طویل وقفہ میں کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے لیکن اس درمیان میں تہجد کی کچھ رکعتی پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسی طرح فجر سے لے کر ظہر تک کے طویل وقفہ میں بھی کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے۔ مگر اس درمیان ”صلٰوہ الضحٰی” کے عنوان سے دو نمازوں کی ترغیب دی گئی ہے۔ اگر یہ رکعتیں طلوع آفتاب کے تھوڑی دیر بعد پڑھی جائیں تو ان کو ”اشراق” کہا جاتا ہے اور اگر دن اچھی طرح چڑھنے کے بعد پڑھی جائیں تو ان کو چاشت کہا جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ چاشت کی نماز کوئی فرض نہیں ہے۔ اس نماز کی رکعتیں بتاتی ہیں کہ بند محض فرائض پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالٰی سے تعلق خاص رکھنے کی وجہ سے تسکین پانے کے لیے وہ نوافل کا سہار لیتا ہے۔ اللہ تعالٰی سے اس طرح کے تعلق کے اظہار میں اگر دکھاوا نہیں سچائی ہے تو وہ سارے صدقات کا بدل ہے۔ صدقہ اللہ تعایی سے تعلق خاطر ہی کا مظہر ہے اس لیے اگر کسی شخص کو سارے صدقات ادا کرکے اللہ تعالٰی کے انعامات و احسانات کا شکریہ ادا کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا تو چاشت کی رکعتیں ہی ان سارے صدقات کے بدلے کافی ثابت ہوں گی۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جس میں انسان کے سارے اعضاء اور اس کے تمام جوڑ اور اس کا ظاہر و باطن سب ہی شریک رہتے ہیں۔ لہٰذا مناسب اوربہتر یہ ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ پڑھنا چاہیے۔

نماز الضحٰی وہ نماز ہے جو کہ پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہے۔ یہ وہ نماز ہے جسے حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جس نے دو رکعت چاشت کا اہتمام کیا اس کے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں”۔ (ترمذی، ابن ماجہ وہ مسند احمد)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.