رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیدین کی نماز کا طریقہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عید قرباں کے دن عیدگاہ کی طرف نکلتے اور سب سے پہلے نماز شروع کرتے، پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوتے، لوگ بدستور اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، وصیت کرتے اور احکام صادر فرماتے اور کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو اس کو روانہ فرماتے یا کوئی خاص حکم دینا ہوتا تو وہ بھی دیتے، پھر واپس ہوتے”۔
(بخاری و مسلم)


فائدہ:۔
مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ خوشی اور غمی ہر دو موقعوں پر اللہ اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرتا ہے، نہ خوشی اسے بھٹکا سکتی ہے اور نہ ہی غم اور دکھ کے مواقع اسے صراط مستقیم سے دور لے جاسکتے ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی مسلمانوں کے لیے خوشی کے دو دن ہیں یہ دو دن مسلمانوں کے لیے بہترین دن ہیں۔

اس حدیث مبارکہ میں اسلامی تہوار منانے کا فطری طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سامنے کیا ہے۔ تہوار کے روز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوجاتے تھے اور نہ کسی طرح کے بےفائدہ کاموں میں مبتلا ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے ثواب کی عظمت و فضائل بیان کرتے اور گناہوں سے ڈراتے تاکہ لوگ اس دن کی خوشیوں اور مسرتوں میں مشغول ہوکر اطاعت سے غافل اور گناہوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ لوگوں کو تقوٰی یعنی پرہیزگاری اختیار کرنے کی وصیت فرماتے۔ عید کا دن مسلمانوں کی خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے۔ عید کی خوشی کوئی معمولی خوشی نہیں ہوتی۔ یہ خوشی مسلمانوں کی زندگی اور ان کی قومی و ملی حیات کی علامت ہے۔ عید کی خوشی امت مسلمہ کو دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلے میں ایک امتیازی شان بخشی ہے۔ دنیا نے خوشی منانے کے جو بھی طریقے ایجاد کیے ہیں ان میں بنیادی طور پر اس کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ وہ آدمی کے لیے لطف و لذت کا سامان ہوں۔ اس مقصد اور غرض کے لیے عام طور پر گمراہی اور عامیانہ پن کی وجہ سے دنیا نے راگ و رنگ اور گانے بجانے کا ہی سہارا لیا ہے۔ جبکہ اسلام نے عید منانے کا جو طریقہ سکھایا وہ یہی نہیں کہ ہر طرح کی برائیوں اور نقائص سے پاک ہے۔ بلکہ حسن وصداقت، پاکیزگی اور انبساط و مسرت کا اعلٰی ترین مظہر بھی ہے۔ خوشی اور مسرت کے اظہار کا اس سے بہتر اور کامل طریقہ ممکن نہیں۔ اسلام کا سکھایا ہوا طریقہ اعلٰی ترین تہذیب کا مظہر ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے لیے وہی شعار پسند کیا ہے جو انسانی فطرت کے مطابق اور صحت مند زندگی کی علامت ہے۔

اسلام نے عید منانے کا طریقہ سکھایا اس سے اس تعلق کا جو اللہ اور بندے کے درمیان پایا جاتا ہے۔ بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ عید میں خوشی کا اظہار خاص طور سے نماز اور تکبیر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اظہار مسرت کے علاوہ یہ اللہ کے حضور بندے کی جانب سے ادائے شکر بھی ہے۔ مومن کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب اور راحت بخش حالت وہ ہے جس میں اس کا تعلق اظہار بدرجہ اتم ہوتا ہے جو اللہ اور اس کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے حالت قیام، رکوع اور سجود سے بڑھ کر کون سی حالت ہوسکتی ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہو۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز و خطبہ کے بعد عیدگاہ ہی میں لوگوں کے معاملات کے بارے میں جو احکام دینے ہوتے تھے وہ صادر فرماتے۔ کلمتہ الحق کی سربلندی کے لیے مجاہدین کے لشکر اور دستے بھی منظم کیے جاتے تھے اور وہیں سے ان کو رخصت اور روانہ کیا جاتا تھا۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.