زہد کی حقیقت

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے زہد (یعنی دنیا سے بے تعلقی) یہ نہیں کہ حلال کو اپنے اوپر حرام کرلیا جائے اور مال کو ضائع کیا جائے، بلکہ دنیا سے زہد یہ ہے ہ جو کچھ تمہارے ہاتھوں میں اس سے کہیں زیادہ اعتماد اور بھروسہ تمہیں اس پر ہو جو اللہ تعالٰی کے ہاتھوں میں ہے۔ اور یہ کہ تمہیں جو ناخوشگواری اور تکلیف پیش آئے تو مصیبت کا ثواب تمہیں اتنا مرغوب (پسندیدہ) ہو کہ تم اس کی خواہش کرو کہ کاش یہ مصیبت باقی رہے”۔
(ترمذی و ابن ماجہ)


فائدہ:۔
اس حدیث سے معلوم ہو کہ زہد کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اللہ کی ان نعمتوں اور اس کی بخشی ہوئی راحتوں کو اپنے اوپر حرام کرلے جن کو اس نے انسانوں کے لیے جائز رکھا ہے۔ مثلاً اچھا کھانا، اچھا پہننا، آرام و راحت، شادی بیاہ وغیرہ، بلکہ زہد یہ ہے کہ آدمی دنیا کی فنا ہوجانے والی چیزوں پر بھروسہ نہ کرے۔ خدا کے فضل و کرم پر اسے یقین اور اعتماد ہو اس کی نگاہ اللہ تعالٰی کے نہ ختم ہونے والے غیبی خزانوں پر ہو۔ اللہ تعالٰی سے وہ ہردم عافیت اور خیریت کا جو اجروثواب خدا کے یہاں اسے ملنے والا ہے اس کے مقابلے میں اس تکلیف و مصیبت کو وہ بے حقیقت سمجھے۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.