حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کے آخری وقت میں جب کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا، تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا، کہ اس وقت تم اپنے آپ کو کس حال میں پاتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ: ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا حال یہ ہے کہ میں اللہ تعالٰی سے رحمت کی امید بھی رکھتا ہوں اور اس کے ساتھ مجھے اپنے گناہوں کی سزا اور عذاب کا ڈر بھی ہے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یقین کرو جس دل میں امید اور خوف کی یہ دونوں کیفیتیں ایسے عالم میں (یعنی موت کے وقت) جمع ہوں، تو اللہ تعالٰی اس کو وہ ضرور عطا فرما دیں گے، جس کی اس کو اللہ کی رحمت سے امید ہے۔ اور اس عذاب سے اس کو ضرور محفوظ رکھیں گے جس کا اس کے دل میں خوف و ڈر ہے”۔
(ترمذی)
فائدہ:۔
مسلمانوں کو اپنی اصلاح کے لیے خوف اور امید دونوں ہی مطلوب ہیں اگر یہ دونوں ساتھ ساتھ ہوں گی تو انسان کے اعمال اور اخلاق میں بہتری ہوگی۔ اگر صرف خوف ہی خوف ہو اور امید نہ ہوتو انسان کے دل میں مایوسی ہوگی، اور اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔ خوف اتنا نہ ہو کہ مایوسی ہوجائے، اتنا خوف ہو کہ جس کی بناء پر آدمی گناہوں سے بچ جائے اور خوف نہ ہی اتنا کم ہو کہ غفلت میں پڑ جائے۔ یعنی خوف اعتدال میں رہنا چاہیے۔ دوسری امید بھی اتنی کم نہ ہو کہ مایوسی ہو اور اتنی بھی زیادہ نہ ہو کہ لاپرواہی کی حدود میں داخل ہو جائے اور اس کے نتیجے میں آدمی گناہ کرنے لگے۔
بدبخت ہے وہ شخص جو توبہ کی امید پر گناہ کرے۔ گناہ سے پہلے امید کا نہیں خوف کا موقع ہے۔ لیکن جب غلطی ہو گئی اور دل میں ندامت پیدا ہوئی۔ گناہ چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اور توبہ کے اوپر آمادہ ہوگیا تو اللہ کی رحمت سے امید باندھ کر استغفار کرے اور مایوس نہ ہو اس لیے یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
