بیویوں کے ساتھ برابری

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی آدمی کی دو (یا دو سے زیادہ) بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ عدل و مساوات کا برتاؤ نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا”۔
(ترمذی، ابوداؤد، نسائی و ابن ماجہ)


فائدہ:۔
اسلامی شریعت میں انسانوں کی مختلف حالتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے مناسب شرائط کے ساتھ چار بیویوں تک کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت میں زنا اور خاص کر شادی شدہ آدمی کے لیے زنا اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کی سزا سنگساری ہے۔ ایسی شریعت میں اگر کسی حال میں تعدد ازواج کی اجازت نہ ہوتی تو انسان پر قانون کی یہ بہت بڑی زیادتی ہوتی۔ کیونکہ بہت سے لوگ اپنی طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے اور بہت سے اپنی بیوی کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت نہ ہوتی تو اس کا بڑا خطرہ تھا کہ وہ حرام کاری میں مبتلا ہوجاتے۔

اب اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ بیویاں رکھتا ہے تو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے اور کسی ک ساتھ معمولی سی بھی ناانصافی نہ کرے۔ اللہ تعالٰی قرآن پاک میں اس طرح حکم دیتے ہیں:۔ ”اور عورتوں سے نکاح کیا کرو جو تمہارے لیے حلال ہیں، خواہ ایک سے، خواہ دو سے، خواہ تین سے، چار سے، پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی نکاح کرو”۔ (النساء ۔ 3)۔

اس حدیث مبارکہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ بیویوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل اور برابری نہیں کرسکیں گے تو آخرت میں ان کے لے انتہائی رسوا کن عذاب ہوگا۔ یعنی جو معاملہ اور برتاؤ میں ایک بیوی کی طرف جھکتا تھا، قیامت میں اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا۔ اللہ پناہ! کیسا دردناک منظر ہوگا اور کیسی رسوائی ہوگی۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.