حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ: ”جو کوئی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اللہ نے اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کردی ہے”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
لا الہ الا اللہ دین کی بنیاد کی پہلی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے ار دین کی تمام باتوں میں اس کا درجہ سب سے اونچا و اعلٰی ہے۔ یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے۔ جس کی تعلیم دے کر اللہ تعالٰی نے انہیں اپنے بندوں کے پاس بھیجا۔ یہ سارے نبیوں کا سب سے اہم اور اولین سبق ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا مطلب ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتلایا وہ بحق ہے۔ جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
کلمہ شریف کے یہ دونوں جز دراصل ایک اقرار نامہ اور عہد نامہ ہے کہ میں صرف اللہ تعالٰی کو خدائے برحق اور معبود و مالک دل و زبان سے مانتا ہوں اور دنیا اور آخرت کی ہر چیز کو صرف اسی کے قبضہ و اختیار میں سمجھتا ہوں۔ لہٰذا میں صرف اسی کی عبادت و بندگی کروں گا اور بندے کو جس طرح اپنے آقا کے حکموں پر چلنا چاہیے اسی طرح میں اس کے حکموں پر چلوں گا۔ اور ہر چیز سے زیادہ میں اس سے محبت اور تعلق رکھوں گا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو میں خدا کا بحق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کرتا ہوں اور میں ایک امتی کی طرح ان کی اطاعت و پیروی کروں گا اور ان کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرتا رہوں گا۔
الغرض یہ کلمہ ہمارا اقرار و اعلان، اعتقاد و ایمان، ہماری زندگی کا اصول اور پوری دنیا کے لیے ہمارا پیغام ہو۔
