ختم نبوت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے گذرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک عمارت بنائی اور اسے خوب حسین و جمیل بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ لوگ اس کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے اور کہتے تھے یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہوں”۔
(بخاری مسلم)


فائدہ:۔
پیغام محمدی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اللہ تعالٰی کا پہلا اور آخری پیغام ہے۔ جو کالے گورے، عرب و عجم، ترک و تاتار، ہندی و چینی، زنگ و فرنگ سب کے لیے عام ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تمام دنیا کا خدا ہے۔ تمام دنیا کا پروردگار ہے (رب العالمین ہے)، اسی طرح اس (اللہ) کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ تمام دنیا کے لیے رحمت ہے (رحمت العالمین ہے) اور اس کا پیغام بھی تمام دنیا کے لیے ہے۔ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور اہم ترین خصوصیت قرآن نے ہمیں بتائی ہے کہ اس (اللہ) کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم، خاتم النبین ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں”۔ (احزاب۔ 40)۔

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے نبیوں و رسولوں کے سلسلہ بند کردیا گیا۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔ بس جن کو ملنی تھی مل چکی۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا گیا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی قیامت کے قریب بحثیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کے آئیں گے۔

حضرت آدم علیہ والسلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر نبی ہر مرسل نے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کی خوش خبری سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نبوت کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور بعثت آخر میں ہوئی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:۔

انبیاء آگئے مرسلین آگئے         مقتدی آچکے تو امام آگیا

انبیائے سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت عظمٰی ہی سے مستفید ہوتے تھے۔ جیسے رات کو چاند اور ستارے سورچ کے نور سے مستفید ہوتے ہیں۔ حالانکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رتبے اور زمانے ہر حیثیت سے خاتم النبین ہیں اور جن کو بھی نبوت ملی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی مہر لگ کر ملی ہے۔ اس حدیث مبارکہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے نبوت کی عمارت مکمل ہوگئی اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی جسے پُر کرنے کے لیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت ہو۔ نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعوٰی لے کر اُٹھے وہ جھوٹا اور مکار ہے اور اس عقیدے کا منکر قطعاً کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے         غبار راہ کو بخشا فروخ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر             وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسین، وہی طہٰ




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.