حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم یقیناً امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور ضرور برائی سے روکو گے یا عنقریب اللہ تعالٰی تم پر اپنا عذاب نازل کرے گا۔ پھر تم اللہ سے دعائیں بھی کروگے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی”۔
(ترمذی)
فائدہ:۔
قرآن و سنت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دینے کی تاکید انتہائی سخت الفاظ میں بتائی گئی ہے اور اس فریضے کو انجام نہ دینے پر سخت عذاب کی وعید بتائی گئی ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد مبارک ہے: ”بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی یہ اس سبب سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرنے والے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو ان برائیوں سے نہیں روکتے تھے جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے۔ البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے”۔ (المائدہ ۔ 78۔79)۔
لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دوری کے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث پاک میں اس طرح آتا ہے۔
یقیناً اللہ تعالٰی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر (پکڑ) کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اسے نشانہ تنقید نہ بنائیں۔ جب ایسا ہونے لگے تو اللہ تعالٰی کا عذاب عام اور خاص سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ (بحوالہ مسند احمد)۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہو گے یا اگر تم اس فریضہ کی انجام دہی سے غافل رہے تو اللہ تعالٰی مختلف طرح کی سختیوں اور مصیبتوں کی صورت میں تم پر اپنا عذاب نازل کرے گا اور اس وقت تم ان سختیوں اور مصیبتوں کے دور ہونے کے لیے اللہ تعالٰی سے دعائیں مانگو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے عذاب اور مصیبتیں تو دعا کی برکت سے ٹلنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ لیکن امربالمعروف و نہی عن المنکر کے ترک پر اللہ تعالٰی کی طرف سے جو آفات و بلائیں نازل ہوتی ہیں وہ دعا کے ذریعہ بھی ٹلنے کی گنجائش نہیں رکھتیں کیونکہ ان کے دور ہونے کے لے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
امربالمعروف و نہیں عن المنکر صرف علماء کرام ہی کا نہیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک امتی کا فرض ہے کہ وہ اس کے فریضے کو انجام دیں اس سلسلے میں علماء کرام کا فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو پوری قوت سے نیکیوں کا حکم دیں اور پوری قوت سے برائیوں سے روکیں اور عوام الناس کا فرض ہے کہ تبلیغ دین میں وہ تن من دھن سے علماء کرام کا ساتھ دیں۔ تقریروں، تحرورں اور تبلیغی لٹریچر کی اشاعت سے کتاب و سنت کو پھیلایا جائے تاکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوسکیں اور عذاب الٰہی سے امن میں رہیں۔
اسلامی حکومت کے حکمرانوں کا بھی فرض ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ پر عمل کرکے عوام کو نیکی کا حکم کریں اور برائیوں سے روکیں، حکومتوں کے پاس وسیع تر اختیارات ہوتے ہیں اس لیے امربالمعروف و نہی عن المنکر کے بارے میں ان کا حکم دینا ساری مملکت کو سنوار سکتا ہے۔ ایک اور جگہ حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ: ”دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے یعنی یا تو تم یقیناً امربالمعروف و نہی عن المنکر کا انجام دو گے یا اس فریضے کی عدم ادائیگی کی صورت میں یقیناً اللہ تعالٰی تم پر تمہارے برے لوگوں کو مسلط کردے گا اور پھر جو تمہارے نیک لوگ (ان برے لوگوں کے فتنہ و فساد اور ظلم و جور کی دوری کے لیے) دعا کریں گے۔ مگر ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی”۔ (بحوالہ طبرانی)۔
ان تمام باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کا وجود انتہائی ضروری ہے جو نہ صرف برائیوں سے خود باز رہنے والے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی ان سے روکتے رہیں۔ اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو برائیوں سے بچنے کی اور نیکی کرنے کی توفیق کے ساتھ ساتھ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
