تین نومبر ایمرجنسی کیخلاف فیصلہ دینے والے تمام جج فارغ
سندھ اور لاہور ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے چھ معزول جج دوبارہ حلف پر تیار ہو گئے ہیں جبکہ باقی ججوں کو ریٹائر کر کے پینشن اور دیگر مراعات دی جائینگی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اور سندھ ہائی کورٹ کے معزول ججوں کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ کے چھ معزول جج دوبارہ حلف پر تیار ہو گئے ہیں۔ حکومت نے تین نومبر جو ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ دینے والے 7 رکنی لارجر بینچ کے سوا تمام ججوں کو
بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان آٹھ ججوں کو ریٹائر کر کے پنشن اور دیگر مراعات دی جائینگی۔ تین نومبر کو قائم کیے گئے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس شاکراللہ جان، جسٹس ناصر، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس غلام ربانی شامل تھے اس بینچ نے ایمرجنسی سمیت تین نرمبر کے تمام اقدامات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا۔ حکومت نے سرحد کے دو سینئر ریٹائرڈ بیورکریٹس کے ذریعے سپریم کورٹ کے جسٹس سردار رضا اور پشاور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس شاہ جہاں یوسف زئی اور جسٹس اعجاز افضل سے رابطہ کر کے انہیں دو نومبر کی سینیارٹی پر بحال کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ نیا حلف لے لیں تاہم ان ججوں نے جواب دیا ہے کہ افتخار محمد چودھری کو دو نومبر والی عدلیہ کی حیثیت سے بحال کرنے تک وہ بحال ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
|