ن لیگ اور پیپلز پارٹی کشیدگی بڑھانے والے اقدامات ختم کرنے پر متفق

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز حالیہ دنوں میں صدارتی انتخاب کے پیش نظر اس مسئلے پر جس نے انہیں اپنی راہیں جدا کرنے پر مجبور کر دیا ہے کوئی مصالحت کئے بغیر ان تمام اقدامات کو ختم کردیں گے جو برہمی میں کئے گئے تھے۔ ان کے تعلقات میں بقائے باہمی کے اصول کی پیروی کے حوالے سے بنیادی مفاہمت غالب رہے گی اور اس مقصد کیلئے دونوں جماعتوں میں قیادت کی سطح پر ہاٹ لائن کام کرتی رہے گی۔ دونوں جانب کی ہائی کمانڈ ان عقابوں اور کام خراب کرنے والوں سے پوری طرح آگاہ ہے جو قیادت سے بہت قریب رہ کر کام کررہے ہیں اور انہیں کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی،اعلیٰ سطح کے سیاسی ذرائع نے دی نیوز کو بدھ کو بتایا کہ نواز لیگ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اپنے اس پرانے موقف پر سختی سے قائم ہے کہ راہیں جدا ہونے کے باوجود وہ مرکز اور پنجاب میں ایک دوسرے کی حکومتوں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔سینیٹر اسحاق ڈار نے مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کسی بھی جانب سے کوئی خطرہ محسوس کرتی ہے تو اپوزیشن میں رہنے کے باوجود ان کی جماعت پی پی پی کو بھرپور حمایت فراہم کریگی اور پیپلز پارٹی کو اپنی حکومت کو بچانے کیلئے سیاسی جماعتوں یا چھوٹے گروپوں کی حمایت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسحاق ڈار نے شریف خاندان کے خلاف نیب کے مقدمات کے دوبارہ آغاز کو جمہوریت کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے کسی سازش میں شریک نہیں ہوگی۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.