لشکر اسلام کے اہم کمانڈرکی گرفتاری نہ دینے پر خوگہ خیل قبیلے کے خلاف کریک ڈاؤن شروع
خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے لنڈی کوتل میں لشکر اسلام کے اہم کمانڈر مفتی محمد اعجاز اور طالبان کمانڈر حضرت علی کی گرفتاری نہ دینے پر ایف سی آر قانون کی اجتماعی ذمہ داری دفعہ کے تحت خوگہ خیل قبیلے کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے لنڈی کوتل بازار میں ایک درجن سے زائد تجارتی مراکز بند کر کے سولہ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ گزشتہ رات گئے پولیٹکل انتظامیہ نے آٹھ رکنی قبائلی جرگہ کو بھی گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا ۔اس سلسلے میں جب پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی طارق حیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قبائلی جرگے نے دونوں کمانڈروں مفتی محمد اعجاز اور حضرت علی کی حوالگی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم جرگہ اس میں ناکام ہوا جس پر انتظامیہ نے ایف سی آر قانون کے تحت جرگہ کو بھی گرفتار کرلیا ۔پولیٹکل ایجنٹ نے یہ بھی کہاکہ خوگہ خیل قبیلے کے خلاف اس وقت تک کریک ڈاؤن جاری رہے گا جب تک مطلوبہ دونوں کمانڈر حکومت کے حوالے نہ کئے جائیں ۔بدھ کے روز لنڈی کوتل بازار میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے خلاف ہوائی فائرنگ بھی ہوئی جبکہ طورخم بازار کو احتجاجاً بند کر کے سینکڑوں افراد نے بارڈر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور طورخم بازار میں درجنوں پرائیویٹ کسٹم کلیرنس ایجنسیز کے مالکان نے احتجاجاً قلم چھوڑ ہڑتال کی جس کے باعث افغانستان کے ساتھ امپورٹ کا کاروبارٹھپ ہو کر رہ گیا اور لنڈی کوتل میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ۔دوسری جانب تحریک طالبان لنڈی کوتل کے ترجمان کمانڈر حضرت علی نے سیکورٹی فورسز اور خاصہ دار فورس کو آج شام تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر انہوں نے طالبان مرکز مسجد قباء کا قبضہ نہ چھوڑا یا طالبان کے دیگر ٹھکانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ان کے خلاف جوابی کاروائی شروع کر دیں گے ۔
|