آصف زرداری کا بطور صدر انتخاب فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کرے گا ۔ قاضی حسین احمد

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کرنا فوجی مداخلت کیلئے دوبارہ راستہ ہموار کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سمیت جن لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور ان کے نتائج کو قبول کیا اب وہ ان انتخابات کے نتائج کو بھگتیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب آصف علی زرداری صدر منتخب ہوں گے تو میاں نواز شریف کس طرح اسے غلط قرار دے سکیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ٤ ستمبر کو عالمی یوم حجاب کے حوالہ سے منعقدہ تقریب ’’ یوم الحجاب فروغ حجاب اور تحفظ حجاب ‘‘سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجویز دی تھی کہ انتخابات میں جانا مناسب نہیں ہے لیکن میاں نوا زشریف سمیت دوسری جماعتوں نے انتخابات میں جانے کا فیصلہ کیا ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ جب تک نیا الیکشن کمشنر مقرر نہ کیا جائے اور آئین کو 12 اکتوبر 1999ء کی حالت میں بحال نہ کیا جائے الیکشن میں حصہ نہیں لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اس کے برعکس الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور نتائج بھی تسلیم کئے ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا وہ اور قوم ان کے نتائج کو بھگتیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدواروں نے ایک ایک حلقہ سے ایک لاکھ اور ساٹھ ہزار ووٹ لئے جوکسی طرح بھی ممکن نہیں ۔ ان نتائج پر بین الاقوامی ایجنسیاں بھی مطمئن نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کو صدر مملکت بنانا پیپلز پارٹی کیلئے بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے امیدوار بننے اور صدر منتخب ہونے سے دوبارہ فوجی مداخلت کا راستہ ہموار ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں جسٹس سعید الزمان صدیقی صدارت کیلئے بہترین امیدوار ہیں ۔ ہم انہی کو ووٹ دیں گے ۔ بلوچستان میں خواتین کو زندہ دفنانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی رسموں کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ان خواتین کو زندہ دفن کرنے میں جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا جانا چاہیئے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ مغربی معاشرہ اپنی تہذیب کے خاتمہ اور تباہی پر پہنچ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جوتہذیب مغرب میں ناکام ہو چکی ہے اسے پاکستان میں فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عورت اور مرد کے شانہ بشانہ چلنے سے انتشار اور افراتفری بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ خود کش حملوں سمیت ایسے عوامل کو روکنے کیلئے اسلام کی واضح تعلیمات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں یا خواتین کے لباس میں تبدیلی تو کی جا سکتی ہے لیکن انہیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم نے کبھی بھی کسی عورت کو مختصر لباس پہننے یا حجاب نہ کرنے پر سزا نہیں دی بلکہ ان چیزوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر عدالت کسی کا بھی قتل جائز نہیں ہے بلوچستان میں جن خواتین کو زندہ دفنایا گیا وہ قتل ہے ایسی رسومات کا اسلامی تعلیمات کے ذریعے خاتمہ کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.