وزیراعظم کی گاڑی پر فائرنگ، دو گولیاں لگیں، عملہ محفوظ رہا
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی گئی۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی لاہور سے واپسی پر اسلام آباد ایئر پورٹ سے اسلام آباد آ رہے تھے کہ ایئر پورٹ چوک کے قریب ان کے قافلے میں شامل گاڑی پر فائرنگ کی گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ وزیر اعظم کی گاڑی کو دو گولیاں لگنے سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے جبکہ وزیر اعظم بحفاظت وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔اسلام آباد ہائی وے پر ایک پہاڑی پر ایمان ، اتحاد اور یقین محکم لکھا جبکہ قائد اعظم کی شبیہ بھی لگائی گئی ہے بتایا جاتا ہے کہ پہاڑی سے فائرنگ کی گئی۔ وزیر اعظم کے پر یس سیکرٹری نے تصدیق کر دی ہے کہ وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وزیر اعظم اور ان کے عملے کے ارکان محفوظ رہے ۔ واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں گزشتہ 27 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے پر بھی حملہ ہوا تھا ۔ وزیر اعظم اوران کے قاتلے کے تمام ارکان بحفاظت وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں اگر واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر کے تلاشی شروع کر دی ہے ادھر وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے راولپنڈی کے واقعے کے بعد راولپنڈی اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم سے بات کی ہے وہ محفوظ ہیں خیریت سے ہیں۔ وفاقی حکومت نے نیشنل پولیس بیورو کے دائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم مقرر کردیا ہے ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کے لیے لانگ رینج گن استعمال کی گئی حملہ آور کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
|