ارتالیس گھنٹوں میں ڈرامائی تبدیلی کا خطرہ

آصف زرداری اگر پاکستان کے صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو طاقت پر ان کی اتنی ہی گرفت ہو گی جتنی سابق صدر مشرف کی تھی۔ پارلیمنٹ کو برخاست کرنے کے اختیارات کے علاوہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہوں گے۔ جوہری اثاثوں کے محافظ بھی ہوں گے۔ مشرف کے دور حکومت میں ان کی پارٹی نے آئندہ صدر کے اختیارات کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اختیارات میں کمی کرنے میں دلچپسی نہیں رکھتے بلکہ وہ خود شو چلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال پر یہ تبصرہ ”وال سڑیٹ جرنل” نے کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملک کے جانزہاپکنز یونیورسٹی واسشنگٹن کے سکول آف انٹر نیشنل سٹڈیز کے پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست کے مسائل کے تناظر میں صدر کو مدبر اور غیر جابندار مشیر کا کردار ادا کرنا چاہیئےتاکہ جمہوری عمل چلتا رہے لیکن آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے سے صدارت کے ادارے کے لیے ایسا کردار ادا کرنا مشکل ہو گا۔ آصف زرداری متنازعہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے کرپشن اور دیگر الزامات کی وجہ سے گیارہ سال جیل میں گزارے۔ ان کے صدر منتخب ہونے سے فوج بھی چوکنا ہو سکتی ہے، جو اس سال غیر جانبداری رہی ہے۔ فوج میں یہ اضراب بھی پایا جاتا ہے کہ آصف زرداری سینئر کمانڈروں میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک سابق پاکستانی سفارتکار کے مطابق ان کی یہ کوشش انہیں فوج کے ساتھ براہ راست تصادم کی سطح پر لے آئے گی۔ ان کے فوج کے ساتھ جولائی میں تعلقات خراب ہوئے جب انہوں نے آئی ایس آئی کو فوج کی بجائے وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی کوشش کی۔ فوجی قیادت کے دباؤ پر فیصلہ تبدیل کر دیا گیا تاہم اس اقدام سے بداعتمادی کا اظہار ہوتا ہے۔ زرداری سے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں پر کنٹرول حاصل کریں گے۔ اب تک حکومت نے فوج کے اشتراک عمل سے یہ کام کیا بلکہ زیادہ تر مسلہ فوج پر ہی چھوڑا ہوا تھا اس مسلہ پر توجہ کے ارتکاز کو امریکہ اور نیٹو پسند کریں گے جو پاکستان پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کے وہ سرحد کے پار عکسریت پسندوں کی کاروائیاں روکنے کیلئے زیادہ کوشش کریں لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زرداری کے صدر بن جانے کے بعد انسداد دہشت گردی کی مہم کو زیادہ سیاسی رنگ دے دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ داخلی و خارجی قوتیں جنہوں نے 18 اگست کو صدر پرویز مشرف کے استعفے میں مدد کی تھی اب زرداری سے تقاضاکر رہی ہیں کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ اقتدار سے بیداخل ہونے والے آمر پر مقدمہ چلے گا نہ قانونی کاروائی ہو گی۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.